نئی دہلی17/فروری(ایس او نیوز/ایجنسی) 7/اپریل2014،یہ وہ تاریخ ہے جب بی جے پی نے لوک سبھا انتخابات کے لئے منشور جاری کیا تھا جس میں وعدہ کیاگیاتھا کہ بی جے پی انتخابی سدھار کرنے کیلئے پابند ہے، جس میں بدعنوانی سے پاک ہندوستان کی تعمیر کا وعدہ کیا گیا ہے۔ لوگوں نے یکطرفہ ہوکر بی جے پی کو ووٹ دیا لیکن 2014کے ہی لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کے 426 میں سے 140امیدواروں پر یعنی33فیصد پر مجرمانہ معاملے درج تھے۔ ان140میں سے98یعنی70فیصد جیت کربھی آئے۔ اس کے بعد2019کے لوک سبھا انتخابات میں بھی بی جے پی کے433 میں سے175یعنی40فیصد امیدواروں پر مجرمانہ معاملے درج تھے جس میں سے116یعنی39فیصد جیت کر پارلیمان پہنچے۔ اتنا ہی نہیں 2014کے عام انتخابات کے بعد سے اب تک سبھی 30 ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہوچکے ہیں، جن میں بی جے پی نے3436،امیدوار اتارے ان میں سے1004داغی تھے۔ مودی اکیلے ایسے لیڈر نہیں ہیں جو انتخاب کی شفافیت کی باتیں کرتے ہیں بلکہ کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے بھی کئی بار سیاست سے جرائم کو دور رکھنے کی بات کی ہے۔ 2018میں کرناٹک اسمبلی انتخابات کے دوران راہل گاندھی نے داغیوں کو ٹکٹ دینے پر مودی پر سوال اٹھایاتھا۔ لیکن ریکارڈ بتاتے ہیں کہ کانگریس نے بھی2014کے لوک سبھا انتخابات میں 128تو2019میں 164داغی امیدوار اتارے تھے۔ بی جے پی اور کانگریس ہی نہیں بلکہ ملک کی تمام سیاسی پارٹیاں جیتنے کے مقصدسے امیدواروں کو ٹکٹ دیتی ہیں،لیکن امیدوار کیساہے؟،علاقہ میں اس کی شبیہ کیا ہے۔ اس سے لوگ کتنے مطمین ہیں، اس پر کوئی بھی پارٹی غور وخوض نہیں کرتی۔ اسی لئے سیاست دن بہ دن گندی ہوتی جارہی ہے جس پر قدغن لگانے کیلئے گزشتہ روز سپریم کورٹ نے اہم اور تاریخی قدم اٹھایاہے۔لیکن تمام سیاسی پارٹیوں کی خوبصورتی یہی دیکھنے میں آتی ہے کہ وہ انتخابات جیتنے کے بعد جرائم اور کرائم میں ملوث امیدواروں پر باتیں کرتی ہیں۔2014کے عام انتخابات میں 445 سیٹوں پر8163،امیدوار میدان میں تھے، جن میں سے1585امیدوار6قومی پارٹیوں کے تھے۔ ان 6قومی پارٹیوں میں بی جے پی، کانگریس، بی ایس پی، مارکسودی کمیونسٹ پارٹی وغیرہ ہیں۔ اس الیکشن میں کھڑے ہوئے 1398 یعنی17فیصد امیدواروں پر مجرمانہ مقدمات چل رہے تھے۔ جب مئی2014میں نتائج آئے تو185ممبران پارلیمان مجرمانہ ریکارڈ والے بھی منتخب ہوکر لوک سبھا پہنچے یعنی34فیصد بی جے پی کے281میں سے35فیصد یعنی98ممبران پارلیمان داغی تھے، کانگریس میں ایسے ممبران پارلیمان کی تعداد44میں سے 8تھی۔2019کے عام انتخابات میں کھڑے ہونے والے امیدواروں کی تعداد2014کے مقابلے میں گھٹ تو ضرور گئی لیکن داغی امیدواروں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔2019میں کل7925امیدوار میدان تھے جن میں سے 19فیصد یعنی1500داغی امیدوار تھے۔ اس الیکشن میں سبھی6قومی پارٹیوں نے 1384 امیدواروں کو میدان میں اتارا جن میں سے496پر مجرمانہ مقدمات تھے۔نتائج آئے کل233یعنی43داغی امیدوار چن کر لوک سبھا پہنچے۔ گزشتہ 5برسوں میں سبھی30ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہوئے۔ سبھی ریاستوں کو ملاکر4033 سیٹیں ہوتی ہیں ان سیٹوں کیلئے39218،امیدوار میدان میں تھے۔جن میں سے7481امیدواروں پر مجرمانہ مقدمات چل رہے ہیں، ان7481 امیدواروں میں سے1476یعنی20فیصد امیدوار جیت کر اسمبلی پہنچے اس حساب سے ہر4میں سے ایک ممبر اسمبلی پر مجرمانہ مقدمہ درج ہے۔